Ye Zindagi

Zindagi ke parchey me sab sawal mushkil hain, Aur sab sawal Laazim hain..!

اک نام کی اُڑتی خوشبو اپریل 5, 2009

Filed under: امجد اسلام امجد — somii @ 6:04 شام
Tags: , ,

اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے
اک بستی آنکھیں ملتی ہے اک شہر نظر میں رہتا ہے

کیا اہلِ  ہنر، کیا اہلِ شرف سب ٹکڑے ردی کاغذکے
اس دور میں ہے وہ شخص بڑا جو روز خبر میں رہتا ہے

پانی میں روز بہاتا ہے اک شخص دئیے اُمیدوں کے
اور اگلے دن تک پھر ان کے ہمراہ بھنور میں رہتا ہے

اک خوابِ ہُنر کی آہٹ سے کیا آگ لہو میں جلتی ہے
کیا لہر سی دل میں چلتی ہے! کیا نشہ سر میں رہتا ہے

جو پیڑ پہ لکھی جاتی ہے جو گیلی ریت سے بنتا ہے
کون اُس تحریر کا وارث ہے ! کون ایسے گھر میں رہتا ہے

ہر شام سُلگتی آنکھوں کو دیوار میں چُن کر جاتی ہے
ہر خواب، شکستہ ہونے تک زنجیرِ سحر میں رہتا ہے

یہ شہر کتھا بھی ہے امجد اک قصہ سوتے جاگتے کا
ہم دیکھیں جس کردار کو بھی جادو کے اثر میں رہتا ہے

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s