Ye Zindagi

Zindagi ke parchey me sab sawal mushkil hain, Aur sab sawal Laazim hain..!

Mere dil mein itne sawal the اپریل 2, 2009

درجہ بند بتحت: Zindagi — somii @ 3:08 pm
Tags: , ,

011

Meri umr se na simat sake, mere dil mein itne sawal the,

Tere pass jitne jawab the, teri ek nigaah mein aa gaye…!

 

Muhabbat مئی 9, 2009

درجہ بند بتحت: Uncategorized — somii @ 3:14 pm

muhabbat

 

ہے دعا یاد اپریل 9, 2009

درجہ بند بتحت: ساغر صدیقی — somii @ 12:50 am
Tags: , , , , ,

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں

میرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیں

ہم نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو

ہم سے کہتے ہیں وہی عہدِ وفا یاد نہیں

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے

میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

کیسے بھر آئیں سرِ شام کسی کی آنکھیں

کیسے تھرائی ستاروں کی ضیا یاد نہیں

صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے

کب ہوا کون ہوا مجھ سے خفا یاد نہیں

آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں

لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

 

یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے

درجہ بند بتحت: قتیل شفائی — somii @ 12:44 am
Tags:

یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو
بدن مرا سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے
میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
برہنہ شہر میں ‌کوئی نظر نہ آئے مجھے
وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا
جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے
وہ میرا دوست ہے سارے جہاں‌کو ہے معلوم
دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے
میں اپنی ذات میں نیلام ہورہا ہوں قتیل
غمِ حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے

 

اک نام کی اُڑتی خوشبو اپریل 5, 2009

درجہ بند بتحت: امجد اسلام امجد — somii @ 6:04 pm
Tags: , ,

اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے
اک بستی آنکھیں ملتی ہے اک شہر نظر میں رہتا ہے

کیا اہلِ  ہنر، کیا اہلِ شرف سب ٹکڑے ردی کاغذکے
اس دور میں ہے وہ شخص بڑا جو روز خبر میں رہتا ہے

پانی میں روز بہاتا ہے اک شخص دئیے اُمیدوں کے
اور اگلے دن تک پھر ان کے ہمراہ بھنور میں رہتا ہے

اک خوابِ ہُنر کی آہٹ سے کیا آگ لہو میں جلتی ہے
کیا لہر سی دل میں چلتی ہے! کیا نشہ سر میں رہتا ہے

جو پیڑ پہ لکھی جاتی ہے جو گیلی ریت سے بنتا ہے
کون اُس تحریر کا وارث ہے ! کون ایسے گھر میں رہتا ہے

ہر شام سُلگتی آنکھوں کو دیوار میں چُن کر جاتی ہے
ہر خواب، شکستہ ہونے تک زنجیرِ سحر میں رہتا ہے

یہ شہر کتھا بھی ہے امجد اک قصہ سوتے جاگتے کا
ہم دیکھیں جس کردار کو بھی جادو کے اثر میں رہتا ہے

 

آئینوں میں عکس نہ ہوں اپریل 3, 2009

درجہ بند بتحت: امجد اسلام امجد — somii @ 5:26 pm
Tags: , , , ,

آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے
جیسے خالی آنکھوں میں بھی وحشت رہتی ہے

ہر دم دُنیا کے ہنگامے گھیرے رکھتے تھے
جب سے تیرے دھیان لگے ہیں فرصت رہتی ہے

کرنی ہے تو کُھل کے کرو انکارِ وفا کی بات
بات ادھوری رہ جائے تو حسرت رہتی ہے

شہرِ سُخن میں ایسا کُچھ کر، عزت بن جائے
سب کچھ مٹی ہو جاتا ہے ، عزت رہتی ہے

بنتے بنتے ڈھے جاتی ہے دل کی ہر تعمیر
خواہش کے بہروپ میں شاید قسمت رہتی ہے

سائے لرزتے رہتے ہیں شہروں کی گلیوں میں
رہتے تھے انسان جہاں اب دہشت رہتی ہے

موسم کوئی خُوشبو لے کر آتے جاتے ہیں
کیا کیا ہم کو رات گئے تک وحشت رہتی ہے

دھیان میں میلہ سا لگتا ہے بیتی یادوں کا
اکثر اُس کے غم سے دل کی صُحبت رہتی ہے

پھولوں کی تختی پہ جیسے رنگوں کی تحریر
لوحِ سُخن پر ایسے امجد شہرت رہتی ہے

 

جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا

درجہ بند بتحت: دعا — somii @ 5:17 pm
Tags:

duaa

 

دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے

درجہ بند بتحت: امجد اسلام امجد — somii @ 5:01 pm
Tags: ,

دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے
اتنا بے سمت نہ چل، لوٹ کے گھر جانا ہے

اُس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹھہر جاتی ہے
جیسے پانا ہی اسے، اصل میں مر جانا ہے

بول اے شامِ سفر، رنگِ رہائی کیا ہے؟
دل کو رُکنا ہے کہ تاروں کو ٹھہر جانا ہے

کون اُبھرتے ہوئے مہتاب کا رستہ روکے
اس کو ہر طور سوئے دشتِ سحر جانا ہے

میں کِھلا ہوں تو اسی خاک میں ملنا ہے مجھے
وہ تو خوشبو ہے، اسے اگلے نگر جانا ہے

وہ ترے حُسن کا جادو ہو کہ میرا غمِ دل
ہر مسافر کو کسی گھاٹ اُتر جانا ہے

 

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.